بیلگاوی،7 ؍ دسمبر (ایس او نیوز) کرناٹکا - مہاراشٹرا تنازعہ میں اس شدت آ گئی ہے جب کل 6 دسمبر کو مہاراشٹرا حامی اور کرناٹکا حامی کارکنان نے دوسری ریاست سے تعلق رکھنے والی موٹر گاڑیوں پر اپنے اپنے علاقے میں سنگ باری کی ۔ اسی کے ساتھ دونوں طرف کے لیڈروں نے ایک دوسرے کے خلاف الزام تراشی اور بیانات کا سلسلہ جاری رکھا ۔
لیڈر شرد پوار کی دھمکی :امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورتحال کے پیش نظر این سی پی لیڈر شرد پوار نے حکومت کرناٹکا کو دھمکاتے ہوئے کہا : " حالات تشویشناک ہیں ۔ ایک قطعی موقف اختیار کرنے کی ضرورت ہے ۔ مہاراشٹرا نے ہمیشہ صبر و تحمل کا رویہ اختیار کیا ہے ۔ لیکن اس کی بھی ایک حد ہوتی ہے ۔ اگر 24 گھنٹے کے اندر موٹر گاڑیوں پر حملے نہیں روکے گئے تو پھر اس کے بعد ہمارا صبر بالکل مختلف شکل اختیار کر جائے گا ۔ اور اس کی پوری ذمہ داری کرناٹکا کی حکومت اور وزیر اعلیٰ پر ہوگی ۔ "
کنڑا حامیوں نے مورچہ سنبھالا :خیال رہے کہ سرحدی موضوع پر تناو اور کشیدگی اس وقت بڑھنی شروع ہوئی جب مہاراشٹرا کے دو وزراء چندرکانت پاٹل اور شمبھو راج دیسائی نے بیلگاوی شہر پہنچ کر مراٹھی حامی گروپس سے ملاقات کا منصوبہ بنایا ۔ اس کے خلاف کنڑا حامی تنظیموں نے اپنی قوت کا مظاہرا کرنے کے لئے احتجاجی مورچہ سنبھالا ۔ ادھر کرناٹکا کے وزیر اعلیٰ بسواراج بومئی نے بھی ان وزراء کو دھمکی دے ڈالی کہ اگر انہوں نے بیلگاوی کا دورہ کیا تو ان کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی ۔ اس پس منظر میں ان دونوں وزراء نے اپنا دورہ منسوخ کر دیا ۔
شیوسینا اور ایم ای ایس والے میدان میں : اس دوران جب کنڑا رکھشنا ویدیکے ریاستی صدر نارائینا گوڈا کی قیادت میں کنڑا حامی کارکنان کی طرف سے ہیرے باگیواڑی ٹول پلازہ کے پاس مہاراشٹرا رجسٹریشن والی موٹر گاڑیوں پر سنگ باری کرنے اور گاڑیوں کے اوپر چڑھ کر کنڑا جھنڈے لہرانے اور رجسٹریشن نمبر پلیٹس اکھاڑ پھینکنے کی ویڈیو وائرل ہوئی تو اس کے جواب میں مہاراشٹرا کے علاقے میں شیوسینا (اودھو بالا صاحب ٹھاکرے) کے کارکنان نے کرناٹکا کی موٹر گاڑیوں کو نشانہ بنایا اور اس پر کالا رنگ پوتنے جیسی حرکتیں شروع کر دیں ۔ اس طرح پرتشدد واقعات شروع ہوگئے ۔
دونوں طرف کرکنان کی گرفتاری : ایک طرف کرناٹکا پولیس نے بتایا کہ اس نے ہیرے باگیواڑی کے پاس جھڑپ کے دوران کئی کنڑا حامی کارکنان کو حراست میں لیا ہے اور بعد انہیں رہا کیا گیا ۔ دوسری طرف پونے پولیس کا کہنا ہے کہ اس نے کرناٹکا کی موٹر گاڑیوں کو نشانہ بنانے والے شیوسینا کے تین کارکنان کو گرفتار کیا ہے ۔ ادھر کولہا پور مہاراشٹرا سے نیپانی سرحد پر جمع ہونے اور بیلگاوی میں داخل ہونے کی کوشش کرنے والے درجنوں شیوسینا کارکنوں کو بھی پولیس نے حراست میں لیا ۔
ایم ای ایس کارکنان کا مظاہرہ:بیلگاوی میں مہاراشٹرا ایکی کرن سمیتی کے اراکین نے ڈی سی آفیس کے پاس جمع ہو کر نیپانی ، کاروار اور بیلگاوی کو مہاراشٹرا میں ضم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے نعری بازی کرنے لگے ۔ انہوں نے ڈپٹی کمشنر نتیش پاٹل سے ملاقات کا وقت مانگا مگر ڈی سی نے ملنے سے انکار کیا ۔ اس کے بعد پولیس نے ایم ای ایس کارکنان کو حراست میں لیا جنہیں بعد میں رہا کردیا گیا ۔
پولیس کے رویہ پر کے آر وی ناراض :ہیرے باگیواڑی ٹول پلازہ کے پاس کنڑا حامی کارکنان کو بیلگاوی جانے سے روکنے کے لئے پولیس نے جس طرح طاقت کا استعمال کیا تھا اس پر کنڑا رکھشنا ویدیکے (کے آر وی) کے صدر نے سخت ناراضگی جتائی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ:" بیلگاوی کرناٹکا کا ایک اٹوٹ حصہ ہے ۔ میں ہوم منسٹر آراگا گیانیندرا سے اس معاملے پر بات کروں گا کہ ہمیں بیلگاوی میں داخل ہونے سے کیوں روکا گیا تھا ۔ کنڑیگاس پر پولیس کی طرف سے حملے کرنا بالکل نامناسب عمل ہے ۔ اس سلسلے میں اے ڈی جی پی آلوک کمار سے بھی میں بات کروں گا ۔
اپنے عوام اور سرحد کا تحفظ : کرناٹکا کے وزیر اعلیٰ بسواراج بومئی نے کہا کہ ان کی حکومت اپنے عوام اور سرحدوں کی حفاظت کے معاملے میں پوری طرح چوکس اور کاربند ہے ۔ ہم لوگ مہاراشٹرا، تلنگانہ، کیرالہ اور دیگر ریاستوں میں بسنے والے کنڑیگاس کی پوری طرح دیکھ بھال کر رہے ہیں ۔ میں نے مہاراشٹرا کے وزراء کو بتا دیا ہے کہ دونوں طرف کے عوام آپس میں ہم آہنگی اور بہتر تعلقات کے ساتھ جی رہے ہیں ، ہمیں اس میں خلل نہیں ڈالنا چاہیے ۔ ہمیں یقین ہے کہ قانونی محاذ پر ہم یہ لڑائی ضرور جیتیں گے ۔ مہاراشٹرا کے وزیر اعلیٰ ایکناتھ شندے نے مجھ سے ٹیلی فون پر بات کی ہے ۔ ہم اس بات پر متفق ہیں کہ قانون اور امن وامان کی صورتحال بنی رہنی چاہیے ۔ سرحدی تنازع کے تعلق سے کرناٹکا کے موقف میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے ۔ سپریم کورٹ میں اس کی مکمل پیروی کی جائے گی ۔
وزرائے اعلیٰ کے درمیان رابطہ :معلوم ہوا ہے کہ مہاراشٹرا کے ڈپٹی چیف منسٹر دیویندرا فڈنویس نے بھی کرناٹکا کے وزیر اعلیٰ سے ٹیلی فون پر بات کی اور کہا کہ کرناٹکا حکومت کو چاہیے کہ وہ ناخوشگوار واقعات پیش نہ آنے دے ۔ حالات کو پرامن بنائے رکھنے میں دونوں لیڈروں کے درمیان تال میل بنا ہوا ہے ۔
ایک طرف مہاراشٹرا کے نائب وزیر اعلیٰ دیویندرا فڈنویس نے کہا ہے مہاراشٹرا کی موٹر گاڑیوں پر حملہ کرنے والوں کے خلاف کرناٹکا پولیس کی طرف سے کی گئی کارروائی کی مکمل جانکاری لینے کے بعد وہ مرکزی وزیر داخلہ امیت شاہ کو یہاں کی صورتحال سے آگاہ کریں گے ۔ دوسری طرف مہاراشٹرا کے بی جے پی ترجمان کیشو اپادھیئے نے کانگریس پارٹی پر الزام لگایا ہے کہ وہ کرناٹکا رکھشنا ویدیکے کے کارکنان کو مہاراشٹرا کی گاڑیوں کی گاڑیوں پر سنگ باری کے لئے اکسا رہی ہے ۔